نئی دہلی، 6 ؍مارچ(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھو آبی معاہدہ کے مختلف پہلوؤں پر20اور21؍مارچ کو لاہور میں بات چیت ہوگی۔اڑی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے اس معاہدے پرپاکستان سے بات چیت معطل کرنے کافیصلہ کیا تھا، اب تقریبا 6 ماہ بعد مستقل سندھو کمیشن(پی آئی سی )کی میٹنگ ہوگی۔سندھو آبی معاہدہ 1960کے تحت سال میں کم از کم ایک بار بات چیت ہونا لازمی ہے،اسی تحت یہ میٹنگ ہورہی ہے۔ہندوستان کی جانب سے سندھو آبی کمشنراوروزارت خارجہ کے افسران اس سالانہ میٹنگ کے لیے ہندوستانی وفد کا حصہ ہوں گے۔پی آئی سی کی گزشتہ میٹنگ یہاں مئی 2015میں ہوئی تھی۔ہندوستان نے دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے لیے پاکستان میں آئندہ میٹنگ میں حصہ لینے کی بات کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مطلب حکومت کی سطح پرہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات بحال ہونا نہیں ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اڑی حملہ سمیت دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں یہ کہتے ہوئے کہ ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا‘، اس معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے ستمبر میں میٹنگ کی تھی۔میٹنگ کے بعد حکام نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے آگے بات چیت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس معاہدے کے تحت ہندوستان اور پاکستان میں باری باری میٹنگ ہونا لازمی ہے۔